ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میکس ہسپتال کا لائسنس نہیں کیا جائے گارد ، کجریوال نے لیا فیصلہ واپس 

میکس ہسپتال کا لائسنس نہیں کیا جائے گارد ، کجریوال نے لیا فیصلہ واپس 

Wed, 20 Dec 2017 20:41:43    S.O. News Service

نئی دہلی20دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )دہلی کے شالیمار باغ کو راحت ملی ہے ؛ کیونکہ کجریوال سرکار نے اس کے لائسنس کو منسوخ قرار دیا تھا اب اس فیصلہ کو واپس لے لیا یعنی اب شالیمار باغ کے میکس ہاسپیٹل کا لائسنس رد نہیں ہوگا ۔فنانس کمشنر نے دہلی حکومت میکس ہسپتال کے لائسنس کو منسوخ کرنے کے فیصلے پر پابندی عائد کردی ہے، جس کے نتیجے میں میکس اسپتال میں نئے مریضوں کا علاج شروع ہو گیا ہے ۔ دراصل ہسپتال نے ایک زندہ نومولود بچے کو مردہ قرار دیا تھا ؛ لیکن جب اس بچے کا انتم سنسکار کیا جا رہا تھا تو اس بچے نے اپنا پیر ہلا کر میکس اسپتال کے ڈاکٹروں کی لاپرواہی بیان کر دی ۔اس واقعہ کے بعد گارجین نے میکس اسپتال کے خلاف اسپتال کے درواز ے کے باہر احتجا ج و مظاہرہ کیا جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے کجریوال سرکار نے جانچ کے بعد لاپرواہی سامنے آنے کی وجہ سے میکس اسپتال کا لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ؛ لیکن فنانس کمشنر نے اس لائسنس منسوخی پر پابندی لگاتے ہوئے میکس اسپتال کو راحت دی ہے ۔دلی حکومت کے فیصلے کے بعد، گورنر نے اس معاملے کو فنانس کمشنر کو عدالت میں بھیجا۔ دہلی حکومت نے میکس ہسپتال شالیمار باغ کے خلاف لاپرواہی کے سلسلے میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ اس رپورٹ میں، کمیٹی نے ہسپتال کو مقرر کردہ طبی قواعد کے مطابق ا نہیں مجرم قرار دیا تھا ۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے رپورٹ کی بنیاد پر کہا تھا کہ ہسپتال نے بچے کی ای سی جی نہیں کیا، جس سے پتہ چلتا کہ بچے کی موت نہیں ہوئی ہے یا نہیں ۔ علاوہ ازیں بغیر تحریر ی ہدایات کے بچے کو ماں باپ کے سپرد کر دیا گیا اور زندہ اور مردہ بچے کو الگ الگ نہیں رکھا تھا ۔ غور طلب ہے کہ شالیمار باغ کے میکس ہسپتال کی طرف سے 2 جڑواں بچوں کو قبل از وقت ولادت کے بعد دونوں بچوں کو مردہ قرار دے کر آخری رسومات کے لیے والدین کے حوالے کر دیا تھا؛ لیکن ان میں سے ایک بچے کے جسم میں حرکت ہونے کے بعد اس کے زندہ رہنے کے ساتھ ہی اہل خانہ نے عمداً غفلت برتنے کا الزام مذکورہ اسپتال پر لگایا تھا۔


Share: